تازہ ترین
• جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ایم ایس او آف انڈیا کا اعلیٰ سطحی وفد، اکابر علماء سے ملاقاتیں، تعلیمی روابط اور غازی سیمینار پر گفتگو • ایم ایس او آف انڈیا کے وفد کی خانقاہِ کاملیہ ولیدپور میں حاضری • عرسِ شہنشاہ ناسک کی نسبت سے نوری مشن کا فری میڈیکل کیمپ • مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل • جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں ایم ایس او وفد کی علمی و فکری نشست، ممتاز الفقہاء مفتی ضیاء المصطفیٰ قادری نے تنظیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں • جامع اشرف کچھوچھہ شریف میں ایم ایس او وفد کی اساتذۂ کرام سے ملاقات، مدارس کے طلبہ کو اعلیٰ و عصری تعلیم سے جوڑنے پر زور • مدرسہ اور یونیورسٹی کے درمیان مضبوط تعلیمی روابط کے فروغ کیلئے ایم ایس او آف انڈیا کا الجامعۃ الاسلامیہ روناہی کا دورہ • مہندوپار میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ، رسمِ دستارِ افتاء و تحقیق اور تقریبِ شادی خانہ آبادی روحانی و علمی شان و شوکت کے ساتھ اختتام پذیر • جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال • وقف ایکٹ نافذ رہے گا، لیکن سپریم کورٹ نے مسلم تعریف والی شق پر پابندی لگا دی ہے

حضرت ڈاکٹر سید خسرو حسینی کی رحلت پر مولانا سید شاہ ندیم اللہ حسینی کا تعزیتی بیان

📅 11-11-2024 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
انتقال و تعزیت

<p>حیدرآباد۔11؍نومبر (ای میل) حضرت مولانا قاری سید شاہ ندیم اللہ حسینی سجادہ نشین آستانہ عالیہ نبیرہ خواجہ دکن حضرت بندہ نوازـؒ حضرت سیدنا شاہ محمد محمد الحسینی المعروف حضرت شاہ راجو قتال حسینیؒ اور مولانا سید شاہ قبول اللہ حسینی برادر سجادہ نشین نے غفرآن مآب حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینیؒ کی وفات پر مشترکہ تعزیتی پیام میں کہا کہ آپ کی رحلت قوم وملت کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، ان کی شخصیت امتیازی خصوصیات کی حامل تھی ،انہوں نے کئی تعلیمی ادارے قائم کیے، جن میں خواجہ بندہ نوازؒ یونیورسٹی کا قیام ایک عظیم کارنامہ ہے۔ یہ ہندوستان کی وہ پہلی یونیورسٹی ہے جو کسی خانقاہ کی جانب سے قائم کی گئی ہے، علاوہ ازیں آپ نے عصری علوم کے ساتھ دینی تعلیم اور تربیت کا بھی بہترین انتظام فرمایا۔حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینیؒ کے قائم کردہ ادارے طلبہ و طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم و تربیت اور اقامت کا نظام فراہم کرتے ہیں۔آپ ملت کے خیرخواہ اور بہترین مربی تھے آپ کی ذات ہر خاص وعام کے لئے مرجع تھی، پیچیدہ مسائل میں کوئی رجوع ہوتا تو رہنمائی فرماتے اور بہترین مشوروں سے نوازتے،آپ کی شخصیت علم و معرفت کا بحر ذخار تھی، آپ شریعت و طریقت کے جامع بزرگ، صاحبِ تصانیف، اور قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں متعدد علمی یادگاریں چھوڑی ہیں اور آخری ایام تک علمی و روحانی خدمات میں مصروف رہے۔حضرت ڈاکٹر سید خسرو حسینیؒ علم کے قدردان تھے، آپ ہمیشہ اہل علم و فضل کا احترام کرتے اور ان کی عزت افزائی کرتے تھے، چھوٹوں پر شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے، جس کی وجہ سے ہر عمر کے افراد آپ کی شخصیت سے متاثر رہتے۔ آپ کی ذات بزرگوں کی یادگار تھی اور آپ کی شخصیت میں وہ تمام اوصاف نمایاں تھے جو ایک روحانی رہنما اور مربی میں ہوتی ہیں۔آپ کی وفات کے بعد آپ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا حافظ سید شاہ محمد علی الحسینی کو سجادہ نشین مقرر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں سلامت باکرامت رکھے اور بزرگوں کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

🎖️ Senior Editor ★★★★★
H

HamariAawaz

📍 Barabanki

📰 1896 پوسٹ👁 428 قارئین📊 0.2 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

خانوادۂ برکاتیہ کا عظیم سانحہ: سید برکات حیدر برکاتی کے انتقال پر ملک بھر میں رنج وغم کی لہر

ضلع کے مدارس میں سید برکات حیدر میاں قادری علیہ الرحمہ کے وصال پر تعزیتی نشست

حضرت سید برکات حیدر برکاتی میاں صاحب کا انتقال، علماے کرام نے پیش کی تعزیت

مقبول ترین پوسٹس

جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال

👁 8 ویوز

دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی

👁 6 ویوز

بھگوا لو ٹریپ کا تازہ واقعہ: اپنی مسلم گرل فرینڈ کو مار کر پندرہ فٹ نیچے زمین میں گاڑ دیا

👁 5 ویوز

نم ناک آنکھوں سے حاجی نسیم رضا قادری ضیائی سپرد خاک، حضور محدث کبیر نے پڑھائی نماز جنازہ

👁 4 ویوز

مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل

👁 4 ویوز