تازہ ترین
• جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ایم ایس او آف انڈیا کا اعلیٰ سطحی وفد، اکابر علماء سے ملاقاتیں، تعلیمی روابط اور غازی سیمینار پر گفتگو • ایم ایس او آف انڈیا کے وفد کی خانقاہِ کاملیہ ولیدپور میں حاضری • عرسِ شہنشاہ ناسک کی نسبت سے نوری مشن کا فری میڈیکل کیمپ • مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل • جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں ایم ایس او وفد کی علمی و فکری نشست، ممتاز الفقہاء مفتی ضیاء المصطفیٰ قادری نے تنظیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں • جامع اشرف کچھوچھہ شریف میں ایم ایس او وفد کی اساتذۂ کرام سے ملاقات، مدارس کے طلبہ کو اعلیٰ و عصری تعلیم سے جوڑنے پر زور • مدرسہ اور یونیورسٹی کے درمیان مضبوط تعلیمی روابط کے فروغ کیلئے ایم ایس او آف انڈیا کا الجامعۃ الاسلامیہ روناہی کا دورہ • مہندوپار میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ، رسمِ دستارِ افتاء و تحقیق اور تقریبِ شادی خانہ آبادی روحانی و علمی شان و شوکت کے ساتھ اختتام پذیر • جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال • وقف ایکٹ نافذ رہے گا، لیکن سپریم کورٹ نے مسلم تعریف والی شق پر پابندی لگا دی ہے

عبادت گاہ تحفظ قانون کو عملی جامہ پہنایا جائے

📅 02-12-2024 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
مئو

<p>محمدآباد گوہنہ /مئو جب ملک میں عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون موجود ہے تو اسے مؤثر ثابت کیوں نہیں کیا جاتا یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عبادتگاہوں کے تحفظ کا قانون ہونے کے باجود بھی فرقہ پرست عناصر مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہیں جس کے نتیجے میں سنبھل میں پانچ لوگوں کی جان تک چلی گئ مذکورہ خیالات کا اظہار بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر قمر مصباحی ، بنکر لیڈران عین المظفر انصاری و جاوید اختر بھارتی نے ایک خصوصی میٹنگ میں کیا تینوں شخصیات نے کہا کہ ملک میں امن و امان قائم رکھنا سب کی ذمہ داری ہے اور مسلمان بخوبی اس ذمہ داری کو نبھا رہا ہے لیکن ملک میں زعفرانی سیاست چل رہی ہے فرقہ پرست طاقتیں ملک کے نظام کو درہم برہم کرنے پر تلی ہوئی ہیں اور نچلی عدالتوں کے ججوں کے طرز عمل سے انہیں تقویت حاصل ہورہی ہے اور نچلی عدالتوں کے ججوں کو سابق چیف جسٹس چندر چوڑ کے اس فرمان سے سماعت کا راستہ مل گیا جس فرمان میں انہوں نے کہا تھا کہ 1991 کے عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون سے متعلق عدالت کو جائزہ لینے کا اور تاریخی نوعیت جاننے کا اختیار حاصل ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عبادتگاہوں کے تحفظ قانون کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ کل مذاہب عبادت گاہیں پوری طرح محفوظ رہ سکیں ۔ یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ جہاں آئین موجود ہو جمہوریت ہو وہاں مذہبی نفرت کی آندھی چلے اس سے ماحول بھی خراب ہوتاہے اور ملک کی شبیہ بھی خراب ہوتی ہے عبادت گاہوں کے معاملے میں نچلی عدالتوں کے ذریعے سماعت کئے جانے پر فوری روک لگائی جائے تاکہ قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہو یہی قومی مفاد میں بھی ہوگا اس کے برعکس ملک میں بدامنی کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

🎖️ Senior Editor ★★★★★
H

HamariAawaz

📍 Barabanki

📰 1896 پوسٹ👁 533 قارئین📊 0.3 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

گھوسی میں جوش و خروش سے نکالا گیا جلوس غوثیہ

جامعہ امجدیہ کے تعلق سے صحیح رپورٹ

عالم اسلام کی عبقری شخصیت محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری صاحب قبلہ کے لئے رضا اکیڈمی نے دعاے صحت یابی کی اپیل کی

مقبول ترین پوسٹس

جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال

👁 8 ویوز

دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی

👁 6 ویوز

بھگوا لو ٹریپ کا تازہ واقعہ: اپنی مسلم گرل فرینڈ کو مار کر پندرہ فٹ نیچے زمین میں گاڑ دیا

👁 5 ویوز

نم ناک آنکھوں سے حاجی نسیم رضا قادری ضیائی سپرد خاک، حضور محدث کبیر نے پڑھائی نماز جنازہ

👁 4 ویوز

مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل

👁 4 ویوز